گاؤ[2]
معنی
١ - 'گول' کی مغیرہ صورت سے مشتق؛ تراکیب میں مستعمل؛ جیسے، گاؤ تکیہ، گاؤ دم وغیرہ۔ "بادشاہ گاؤ سے لگ کر بیٹھ جاتے ہیں تو بیگم کورنش بجا لاتی ہیں۔" ( ١٩٦٧ء، اُجڑا دیار، ٦٩ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ صفت 'گول' کی تخیف 'گا' کے ساتھ 'و' بطور لاحقہ صفت بڑھانے سے 'گاؤ' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور ١٩٠٠ء کو "شریف زادہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - 'گول' کی مغیرہ صورت سے مشتق؛ تراکیب میں مستعمل؛ جیسے، گاؤ تکیہ، گاؤ دم وغیرہ۔ "بادشاہ گاؤ سے لگ کر بیٹھ جاتے ہیں تو بیگم کورنش بجا لاتی ہیں۔" ( ١٩٦٧ء، اُجڑا دیار، ٦٩ )